ابنا: جناب غلام علی حداد عادل نے کل شام شمالی ایران کے صوبے گیلان کے ریڈیو ٹیلیویژن کے ساتھ خصوصی گفتگو میں 9 دی مطابق تیس دسمبر کے روز عوام کی بصیرت کا راز، ایران کے اسلامی انقلاب کے عظیم مکتب سے درس حاصل کرنا قراردیا اور کہا کہ ان برسوں میں عوام ، استقلال ، آزادی ، جمہوری اسلامی کی مٹھاس سے آشنا ہوچکےہيں اور وہ ولایت فقیہ کے حامی ہیں اور وہ دشمنوں کی سازشوں اور بہکاوے ميں نہیں آئيں گے۔مجلس شورائے اسلامی کے نمائندے نے 2009 میں ایران کے صدارتی انتخابات کے بعد ہونے والے فتنے کی جڑ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ظاہری مسئلہ، انتخابات کے نتائج پربعض افراد کا احتجاج تھا اور پوری دنیا میں اور اسلامی جمہوریہ ایران میں بھی نامزد امیدواروں کو اعتراض کا حق حاصل ہے لیکن 2009 کے انتخابات کے بعض نامزد امیدواروں نے غیرقانونی راستہ اختیار کیا اور اپنے حریف پر قانون شکنی کا الزام عائد کیا اور اسی دن سے قانون کی خلاف ورزی کرنے والے بن گئے ۔ واضح رہے کہ 6 دی مطابق تیس دسمبر 2009 کو بعض سامراجی ایجنٹوں اور خود فروختہ افراد نے عاشور کےدن عزاداران حسین پر حملہ کرکے آشوب برپا کردیا تھا جس کے بعد 9 دی مطابق تیس دسمبر 2009 کو پورے ایران میں لوگ سڑکوں پرنکل آئے اور دشمن عناصر کے خلاف اپنے غم وغصے کا اظہار کیا اور ایران کے بانی انقلاب اسلامی حضرت امام خمینی (رہ ) اور رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیۃ اللہ العظمی خامنہ ای کے ساتھ تجدید بیعت کیا۔
.......
/169